سفر میں ہونے والا مشاہدہ




 کچھ عرصہ قبل بذریعہ بس اسلام آباد جاتے ہوئے ایک عجیب مشاہدہ ہوا۔

بس میں ایک دیہاتی باباجی سوار ہوئے،  جنہوں نے روایتی لباس پہنا ہوا تھا۔ یعنی تہمد، کرتہ، ویسکوٹ  اور کھسہ۔ سرپہ سواتی ٹوپی اور اوپر چادر کی بکل سی ماری ہوئی۔ لباس گو صاف ستھرا تھا لیکن صاف لگ رہا تھا کہ باباجی کی ساری عمر کھیتی باڑی کرتے گزری ہے۔ 

بس چلنے کے کچھ ہی دیر بعد باباجی نے بس کی میزبان کو بلایا اور ایک ٹشو مانگا۔ میزبان نے خاصا برا سے منہ بنایا۔ بڑے تکلف سے واپس گئی اور ایک استعمال شدہ ٹشو لا کر باباجی کے حوالے کر دیا۔  باباجی نے ٹشو دیکھا تو وہ گندہ تھا۔  انہوں نے میزبان سے شکایت کی تو اس نے  احسانوں کے پہاڑ توڑتے ہوئےایک نیا ٹشو لا کر دیا۔ خاتون کے روئیے سے ناگواری چھلک رہی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ باباجی کو موبائل فون پہ کال آئی۔ باباجی شاید اونچا سنتے تھے اس لئےبولتے بھی اونچا تھے۔  کوئی لاکھوں کروڑوں کا معاملہ تھا۔ فون پر ہی خریدوفروخت ہو رہی تھی۔ ایسی دو تین کالز  باباجی کو آئیں اور دو تین کالز انہوں نے جواب میں کیں۔  باباجی کی آواز سے پوری بس کو پتہ چل گیا تھا کہ باباجی فون پر ہی لاکھوں کروڑوں کے سودے کر رہے ہیں اور بذاتِ خود بہت بڑی آسامی ہیں۔ ظاہر ہے میزبان بھی یہ سب گفتگو سن رہی تھی۔

 ۔۔

اس گفتگو کے بعد سے باباجی کی جو آؤ بھگت ہوئی اسے دیکھ دیکھ کر باقی مسافر اُن  پر رشک کرنے لگے تھے۔ میزبان کا رویہ بالکل ہی بدل گیا۔ کہاں وہ کٹھور پن اور کہاں اب میٹھاپن۔   ہر چند منٹ بعد آتی اور باباجی سے پوچھتی کہ انہیں کچھ چاہئیے تو نہیں۔  

۔۔

ہم اکثر کپڑوں سے دوسروں کی حیثیت کا غلط اندازہ لگالیتے ہیں۔ مشتاق یوسفی مرحوم نے اپنے بنکنگ کیریر کی یاداشتوں پر مبنی "زرگزشت" میں اس حوالے سے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ جس بندے کو انہوں نے کھٹارا لباس میں ملبوس کوئی فقیر سمجھا بعد میں وہ کروڑپتی سیٹھ نکلا۔اس کے بعد سے انہوں نے لباس کی بنیاد پر کسی کی حیثیت کو جانچنا چھوڑ دیا۔بھکاریوں کی بھی عزت کرنی شروع کر دی کہ کیا خبر یہ کوئی مالدار آسامی ہی ہو۔

یہ تو ٹھیک ہے کہ کسی کو لباس کی بنیاد پر کم حیثیت نہیں سمجھنا چاہیئے۔ لیکن  یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنا لباس درست رکھنا چاہیئے۔ دوسروں کو اس آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ ہمارے بارے میں ہمارے لباس سے غلط اندازے لگاتے رہیں۔ حیثیت رکھتے ہوئے بھی پھٹا پرانالباس  پہننا درویشی کی علامت نہیں۔ حسن صہیب مراد صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر آپ کسی سے ملنے جاتے ہیں اور اچھا لباس زیب تن نہیں کرتے تو آپ ایک طرح سے اُس کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ گویا آپ اسے اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس کے لئے اچھا لباس پہنیں۔ عام لوگ ایک دوسرے کو ظاہری حلیے سے ہی  جج کرتے ہیں۔ اس لئے اگر آپ کو اپنی عزت کرانی ہے تو اچھا لباس پہن کر ہی گھر سے نکلیں۔ پھٹے پرانے لباس میں ممکن ہے آپ کو ذاتی طور پر جاننے والے تو مائنڈ نہ کریں لیکن دوسرے لوگ جو آپ کو نہیں جانتے یقیناً آپ کو مناسب مقام نہیں دیں گے۔  

قران میں بھی اچھے لباس کی تاکید آئی ہے۔ سورۃ الاعراف میں کہا گیا کہ اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں الٹی روش چلتی ہے۔ دفتر اور عام میل ملاقات کے لئے عموماً بہت اچھے لباس کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن مسجد جانا ہو تو میلے کچیلے کپڑوں سے ہی کام چلالیا جاتا ہے۔ گویا ہماری نظرمیں اللہ کامقام عام دنیاوی باسز سے بھی بہت کم ہے۔  یا ممکن ہے ہم سمجھتے ہوں کہ اللہ اتنا رحیم و کریم ہے جو ہمارے جذبات تک سے واقف ہے، اسے ہماری ظاہری نمود و نمائش سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ خود اس خواہش کا اظہار فرما رہے ہیں کہ جب بھی ان کے دربار میں جاؤ تو پورے اہتمام کے ساتھ جاؤ تو ضروری ہے کہ حتی المقدور اس کی کوشش کرنی چاہیئے۔


عمران زاہد
3 مارچ 2024


سورۃ الاعراف آیت 32-31 کا ترجمہ
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا (31) پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے(32)

Comments