غیرذمہ دارانہ صحافت

 سوشل میڈیا کے آغاز میں وائرل ہونے والی چیزوں سے میں بھی دھوکا کھا جاتا تھا۔ لیکن اب عادت بنا لی ہے کہ حتی المقدور تصدیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایسے میں بعض اوقات دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔

۔
جیسے آج ہی جنگ نے خبر دی کہ کئی سینیٹرز، جن کے نام خبر میں دئیے گئے ہیں، اپنی نشستوں سے محروم ہو چکے ہیں اور "یہ نکتہ ایک قانون اور پارلیمانی امور کے ایک ماہر سینیٹر نے آئین کے آرٹیکل 227کی شق4 کے تناظر میں اٹھایا ہے، جس کے مطابق کوئی سینیٹر کسی دوسرے ایوان کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے الیکشن لڑتا ہے تو کامیابی کی صورت میں پہلے ایوان میں اس کی نشست ازخود خالی ہو جاتی ہے۔"
۔۔
اس خبر کو پڑھتے ہی میرا فطری ردعمل یہ تھا کہ اچھا آئین کے آرٹیکل 227 کو دیکھنا چاہیئے کہ اس میں واقعی ایسا کوئی نکتہ درج ہے یا نہیں۔ آئین کے انگریزی اور اردو ورژن دونوں ہر وقت ڈیسک ٹاپ پر دھرے رہتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 227 ملاحظہ کیا تو حیرت ہوئی کہ نہ صرف اس آرٹیکل کا کسی ایوان کی نمائندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ اس میں شق4 بھی نہیں تھی۔ یہ آرٹیکل صرف 3شقوں پر ہی مشتمل ہے۔
۔۔
ممکن ہے یہ معاملہ کسی اور شق میں بیان کیا گیا ہو۔ لیکن اخباروں کو خبر شائع کرنے سے پہلے حقائق کی جانچ تو ضرور کر لینی چاہیئے۔ ورنہ غلط معلومات قارئین کو گمراہ کرتی رہتی ہیں۔
۔
خبر اور آئین کے متعلقہ تراشے کمنٹس میں عمران زاہد 29فروری2024

آئین کے آرٹیکل 227 کا تراشہ

آئین کے آرٹیکل 227 کا تراشہ






Comments