Posts

Showing posts from March, 2024

غیرذمہ دارانہ صحافت

Image
  سوشل میڈیا کے آغاز میں وائرل ہونے والی چیزوں سے میں بھی دھوکا کھا جاتا تھا۔ لیکن اب عادت بنا لی ہے کہ حتی المقدور تصدیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایسے میں بعض اوقات دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ ۔ جیسے آج ہی جنگ نے خبر دی کہ کئی سینیٹرز، جن کے نام خبر میں دئیے گئے ہیں، اپنی نشستوں سے محروم ہو چکے ہیں اور "یہ نکتہ ایک قانون اور پارلیمانی امور کے ایک ماہر سینیٹر نے آئین کے آرٹیکل 227کی شق4 کے تناظر میں اٹھایا ہے، جس کے مطابق کوئی سینیٹر کسی دوسرے ایوان کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے الیکشن لڑتا ہے تو کامیابی کی صورت میں پہلے ایوان میں اس کی نشست ازخود خالی ہو جاتی ہے۔" ۔۔ اس خبر کو پڑھتے ہی میرا فطری ردعمل یہ تھا کہ اچھا آئین کے آرٹیکل 227 کو دیکھنا چاہیئے کہ اس میں واقعی ایسا کوئی نکتہ درج ہے یا نہیں۔ آئین کے انگریزی اور اردو ورژن دونوں ہر وقت ڈیسک ٹاپ پر دھرے رہتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 227 ملاحظہ کیا تو حیرت ہوئی کہ نہ صرف اس آرٹیکل کا کسی ایوان کی نمائندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ اس میں شق4 بھی نہیں تھی۔ یہ آرٹیکل صرف 3شقوں پر ہی مشتمل ہے۔ ۔۔ ممکن ہے یہ معاملہ کسی اور شق میں ب...

سفر میں ہونے والا مشاہدہ

Image
 کچھ عرصہ قبل بذریعہ بس اسلام آباد جاتے ہوئے ایک عجیب مشاہدہ ہوا۔ بس میں ایک دیہاتی باباجی سوار ہوئے،  جنہوں نے روایتی لباس پہنا ہوا تھا۔ یعنی تہمد، کرتہ، ویسکوٹ  اور کھسہ۔ سرپہ سواتی ٹوپی اور اوپر چادر کی بکل سی ماری ہوئی۔ لباس گو صاف ستھرا تھا لیکن صاف لگ رہا تھا کہ باباجی کی ساری عمر کھیتی باڑی کرتے گزری ہے۔  بس چلنے کے کچھ ہی دیر بعد باباجی نے بس کی میزبان کو بلایا اور ایک ٹشو مانگا۔ میزبان نے خاصا برا سے منہ بنایا۔ بڑے تکلف سے واپس گئی اور ایک استعمال شدہ ٹشو لا کر باباجی کے حوالے کر دیا۔  باباجی نے ٹشو دیکھا تو وہ گندہ تھا۔  انہوں نے میزبان سے شکایت کی تو اس نے  احسانوں کے پہاڑ توڑتے ہوئےایک نیا ٹشو لا کر دیا۔ خاتون کے روئیے سے ناگواری چھلک رہی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ باباجی کو موبائل فون پہ کال آئی۔ باباجی شاید اونچا سنتے تھے اس لئےبولتے بھی اونچا تھے۔  کوئی لاکھوں کروڑوں کا معاملہ تھا۔ فون پر ہی خریدوفروخت ہو رہی تھی۔ ایسی دو تین کالز  باباجی کو آئیں اور دو تین کالز انہوں نے جواب میں کیں۔  باباجی کی آواز سے پوری بس کو پتہ چل گیا تھا ...